حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایسے معاشرے میں جہاں خواتین مختلف میدانوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں، اُن کی سرگرمیوں سے متعلق شرعی احکام سے آگاہی نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ انہی اہم مسائل میں سے ایک، خواتین کا بیوٹی پارلرز میں کام کرنا اور اس کا اسلامی معاشرے کی عفت پر اثر ہے۔ اس موضوع پر حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہای کے جوابِ استفتاء کی تفصیل ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔
سوال: بعض خواتین اپنے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے بیوٹی پارلرز میں کام کرتی ہیں، کیا یہ عمل بے حیائی کے فروغ یا اسلامی معاشرے کی عفت کے لیے خطرہ نہیں سمجھا جائے گا؟
جواب: خواتین کا آرائش کرنا بذاتِ خود اور اس کے بدلے اجرت لینا شرعاً حرج نہیں رکھتا، بشرطیکہ یہ آرائش نامحرم کو دکھانے کے مقصد سے نہ کی جائے۔









آپ کا تبصرہ